آگرہ، 22اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)راشٹریہ سیویم سویک سنگھ(آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے آج کہا کہ اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں کشمیر مسئلہ حل کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن بعد کی حکومتوں نے واجپئی کی کوششوں کو آگے نہیں بڑھایا۔بھاگوت نے کل یہاں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری لوگ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے،ہمیں کشمیر میں لوگوں کے درمیان قومیت کا احساس پیداکرنا چاہئے۔انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح واجپئی کشمیر مسئلے کو حل کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن بعد کی حکومتوں نے ان کی کوششوں کو آگے نہیں بڑھایا۔شہر کے تقریبا 2000نوجوان جوڑوں سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ کے سربراہ نے کشمیر، گؤرکشا، مشنری اسکول، یکساں سول کوڈ اور کئی دیگر مسائل پر بہت سے سوالات کے جواب دئے۔گؤرکشا کے نام پر ہو رہے تشدد کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ گؤرکشا کا کام قانونی دائرے میں ہونا چاہئے۔انہوں نے نوجوانوں کو اقدار کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اثرات معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں،ہمیں اپنے باپ دادا کی طرف سے دئے گئے اقدار کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،اگر قوم کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنے نوجوانوں کو اقدار سکھانے ہوں گے،نوجوان جوڑوں کو ان اقدار کو اپنانا ہوگا،ہماری شناخت ملک سے ہونی چاہئے۔